چمن چمن پہ وہی حیرتیں سی ہیں طاری
خزاں کے بعد بہاروں کا سلسلہ جاری
چمکتے ہیں سبھی چہرے مگر نہ جانے کیوں
خلوص سے ہیں یہاں پر تمام دل عاری
تمہاری جیت پر ہم خوش ہوئے مگر بازی
چلو سناتے ہیں تم کو ذرا یہ رات کٹے
کہ آج دل پہ ہے اک بوجھ سا یہ کیوں بھاری
لبوں پہ بات نہیں آئی اور نہ آئے گی
کہ اپنی ذات کسی پر ہے ہم نے کیوں واری
نزہت عباسی
No comments:
Post a Comment