لگے نشان سے آگے نہیں نکل سکتا
وہ خاندان سے آگے نہیں نکل سکتا
فقیر آگ کا دریا تو چیر سکتا ہے
تِرے مکان سے آگے نہیں نکل سکتا
مِرا وجود تِری ذات کی ریاضت ہے
وہ تیز گام زمانے سے بھاگ سکتا ہے
مِرے گمان سے آگے نہیں نکل سکتا
لطیف میں تو کبھی سچ بھی بول لیتا ہوں
سو، مفتیان سے آگے نہیں نکل سکتا
لطیف ساجد
کیا میں اپنا کلام یہاں رکھ سکتا ہوں
ReplyDeleteسلام مسنون دلشاد دل صاحب
Deleteمجھے آپ کے دو عدد میسج ملے تھے لیکن کمیونٹی میں ایک فوتگی کی وجہ سے مصروفیت رہی، جس کی وجہ سے بروقت جواب نہیں دے سکا۔ آپ ایسا کیجئے کہ اپنا کلام مجھے ای میل کر دیں، پھر میں وقفے وقفے سے آپ کی شاعری بلاگ کی زینت بناتا رہوں گا اور جیسے ہی 10 شاعری کے نمونے مکمل ہو جائیں گے آپ کا الگ سے زمرہ بنا دیا جائے گا۔