Sunday, 9 August 2020

لگے نشان سے آگے نہیں نکل سکتا

لگے نشان سے آگے نہیں نکل سکتا
وہ خاندان سے آگے نہیں نکل سکتا
فقیر آگ کا دریا تو چیر سکتا ہے
تِرے مکان سے آگے نہیں نکل سکتا
مِرا وجود تِری ذات کی ریاضت ہے
میں اس تھکان سے آگے نہیں نکل سکتا
وہ تیز گام زمانے سے بھاگ سکتا ہے
مِرے گمان سے آگے نہیں نکل سکتا
لطیف میں تو کبھی سچ بھی بول لیتا ہوں
سو، مفتیان سے آگے نہیں نکل سکتا

لطیف ساجد

2 comments:

  1. کیا میں اپنا کلام یہاں رکھ سکتا ہوں

    ReplyDelete
    Replies
    1. سلام مسنون دلشاد دل صاحب
      مجھے آپ کے دو عدد میسج ملے تھے لیکن کمیونٹی میں ایک فوتگی کی وجہ سے مصروفیت رہی، جس کی وجہ سے بروقت جواب نہیں دے سکا۔ آپ ایسا کیجئے کہ اپنا کلام مجھے ای میل کر دیں، پھر میں وقفے وقفے سے آپ کی شاعری بلاگ کی زینت بناتا رہوں گا اور جیسے ہی 10 شاعری کے نمونے مکمل ہو جائیں گے آپ کا الگ سے زمرہ بنا دیا جائے گا۔

      Delete