ہم فقیروں کی سب کے تئیں معذرت
معذرت، بس دمِ واپسیں معذرت
ہمقدم پاؤں سے پاؤں ملتے نہیں
ہمسفر تم سے کر دوں یہیں معذرت
جس کی قیمت لگانے کو آپ آئے ہیں
ہم انا زادوں کی تربیت اور ہے
ہم جھکا تے نہیں ہیں جبیں معذرت
جی میں آتا ہے گھر چھوڑ دوں ایک شب
اور کمرے میں لکھ دوں کہیں، معذرت
ہم نے رکنا نہیں رکنے والو، مگر
عا فیت، تہنیت، آفریں، معذرت
میں تیرے باب میں کچھ نہیں کر سکا
معذرت، اے دلِ خوش یقیں! معذرت
ہم کہیں کے بھی ہو کر نہیں رہ سکے
اے فلک اعتذ ار، اے زمیں! معذرت
طالبِ خود فروشی کے دربار میں
میری جانب سے لکھ دو نہیں معذرت
دعوتیں دو ہیں، اور زندگی ایک ہے
اہلِ دل شکریہ اہلِ دیں معذرت
افتخار اس کو بس اک دعائے ابد
افتخا ر اس کو اک آخرِیں معذرت
افتخار مغل
وااااہ وااااہ واااااہ
ReplyDeleteکمال کی غزل ہے