پاس آنے میں جب زمانے لگے
ہم غلط راستے سے جانے لگے
دل بڑا کر کے میں بھی سونے لگا
اتنا سویا کہ خواب آنے لگے
راتیں خاموشیاں بچھا کے کٹیں
دن کسی ڈھابے پر بِتانے لگے
ہجر میں یہ بھی دور آیا کہ گھر
رونے آتے تھے، رو کے آنے لگے
اردو بولی تو جیسے جادو ہوا
آنکھیں جھپکیں تو ہم ٹھکانے لگے
اس قدر بے بسی کہ شرم سے ہم
رو نہ پائے، تو مسکرانے لگے
اس نے دل میں ہر اک کو دی ہے جگہ
چائے کی کیتلی میں خانے لگے
آل عمر
آلِ عمر
No comments:
Post a Comment