Saturday, 21 November 2020

رہنا وہیں پہ چاہیے تھا پر نہیں رہے

 رہنا وہیں پہ چاہیے تھا، پر نہیں رہے

راہوں میں ساری عمر رہے گھر نہیں رہے

ایسی سیاہ رات تھی اک بار تو لگا

آنکھیں نہیں رہی ہیں یا منظر نہیں رہے

کھل کے برس کبھی مرے ابرِ گریز خُو

نم ہو رہے ہیں سوکھے گھڑے بھر نہیں رہے

ایسا نہ ہو کہ لوٹ کر آنا پڑے یہیں

اس خوف سے بھی قصدِ سفر کر نہیں رہے

ہر سانس لگ رہا ہے ہمیں آخری یہاں

جی بھی کہاں رہے ہیں اگر مر نہیں رہے

دریا تو دے رہا ہے ہمیں راستہ ظہیر

ہم بے یقین، پاؤں مگر دھر نہیں رہے


ظہیر مشتاق

No comments:

Post a Comment