بے کنار
چھلک اٹھی ہیں منظروں کی نم زدہ
فصیل پہ بنی ہوئی بصارتیں
بصارتیں جو تیرے مبتلا کو دان کر رہی ہیں
نت نئی بجھارتیں
وہ زائچے کہ جن کی ہر لکیر، لفظ، کاغذی گراف میں چھپی ہوئی کہانیاں
کہانیاں کہ جن میں مستقل نئی علامتیں
شباہتیں
کہ جو کسی خیال سے ملی نہیں
وجود جو کہ میرا پہلا جرم ہے
اے میرے بے کنار دل کی
لا شریک مالکہ
گمان کا دبیز بن
شرر طلب گداز من
اور اس پہ یہ زمیں زمن
دکھا رہے ہیں آگ جس کی روشنی ہے نیلگوں
اے نیلگوں لباس میں چھپی پری
پری کہ جس پہ اپنی دلکشی بھی جیسے بوجھ ہو
وہ حسن جس کے سابقے کہی سنی حکایتوں کے
غار میں پڑے رہیں
میں غار سے نکل کے بستیوں کی خاک چھاننے میں محو ہوں
یہ بستیاں کہ جن میں ان گنت گھروں کا جال ہے
یہ جال جس میں میرے نام سے لگی فصیلِ خشت
حسن کا زوال ہے
زوال پھانکتے ہوئے جہانِ بے ثبات کو بدل کے مل
اے میرے بے مدار دل کی لا شریک مالکہ
لباسِ کائنات سے نکل کے مل
ذوالقرنین حسنی
No comments:
Post a Comment