کئی دنوں سے مسلط عجب اُداسی ہے
یہ تیرا غم تو نہیں بے سبب اداسی ہے
تمہیں تو خیر زمانے کے ساتھ چلنا ہے
ہمیں ہے عشق ہماری طلب اداسی ہے
یہ کھڑکیاں تو یونہی کھول دی ہیں فُرصت میں
ہمارے دل میں ہے کمرے میں کب اداسی ہے
وہ آج رات مجھے یاد آ رہا ہے بہت
میں آج رات ہوں اور آج شب اداسی ہے
ہمارے سینے پہ نوحے نزول کرتے ہیں
ہمارے واسطے بزمِ طرب اداسی ہے
میں اضطراب میں تھا اور سکون تھا کتنا
میں اب سکون میں ہوں توغضب اداسی ہے
مِرے وجود سے پھُوٹے گی روشنی دیکھو
مِرے وجود میں اُتری ہی اب اداسی ہے
میں اب یقین محبت پہ لا چکا عاطف
میں اب یقین سے کہتا ہوں سب اداسی ہے
عاطف شبیر
No comments:
Post a Comment