دوست ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
پھول کھلتے ہیں تو جھڑ جاتے ہیں
دو دل اس طرح ہوئے ہیں ویران
جس طرح باغ اجڑ جاتے ہیں
خواب تعبیر کی صورت پا کر
اکثر اوقات بگڑ جاتے ہیں
سامنے جب کوئی دشمن نہ رہے
دوست آپس ہی میں لڑ جاتے ہیں
جب رعونت سے کوئی ملتا ہے
ہم ذرا اور اکڑ جاتے ہیں
تیر چلتے ہیں کسی پر طاہر
کیوں مِرے سینے میں گڑ جاتے ہیں
اکرم طاہر
No comments:
Post a Comment