Saturday, 24 April 2021

دوست ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں

دوست ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں

پھول کھلتے ہیں تو جھڑ جاتے ہیں

دو دل اس طرح ہوئے ہیں ویران

جس طرح باغ اجڑ جاتے ہیں

خواب تعبیر کی صورت پا کر

اکثر اوقات بگڑ جاتے ہیں

سامنے جب کوئی دشمن نہ رہے

دوست آپس ہی میں لڑ جاتے ہیں

جب رعونت سے کوئی ملتا ہے

ہم ذرا اور اکڑ جاتے ہیں

تیر چلتے ہیں کسی پر طاہر

کیوں مِرے سینے میں گڑ جاتے ہیں


اکرم طاہر

No comments:

Post a Comment