Saturday, 24 April 2021

مزہ شباب کا جب ہے کہ با خدا بھی رہے

 مزہ شباب کا جب ہے کہ با خدا بھی رہے

بتوں کے ساتھ رہے اور پارسا بھی رہے

مذاق حسن پرستی قبول ہے مجھ کو

اگر نگاہ حقیقت سے آشنا بھی رہے

نظام دہر جدا کر رہا ہے دونوں کو

میں چاہتا ہوں کلی بھی رہے صبا بھی رہے

کہاں سے جان بچے جب وہ شوخ سحر نگاہ

جفا شعار بھی ہو مائل وفا بھی رہے

مجھے ملا ہے وہ رنگین ادا مقدر سے

جو دل میں جلوہ نما بھی رہے چھپا بھی رہے

چمن پرست وہی ہے جس کا ذوق سلیم

گلوں کے سائے میں کانٹوں سے کھیلتا بھی رہے

وہ رندِ پاک طبیعت ہے آپ کا شاعر

شراب بھی نہ پئے اور جھومتا بھی رہے


شاعر فتحپوری

No comments:

Post a Comment