آسمانی فیصلہ آنے کو ہے
شہر میں کوئی وبا آنے کو ہے
ختم ہوتا ہے جو اک دیوار پر
آگے وہ بھی راستہ آنے کو ہے
احتیاطاً شہر میں ہے فوجِ شاہ
حُکم درباروں سے کیا آنے کو ہے
چھوڑنے ہیں ہم کو اک دُوجے کے ہاتھ
ایسا بھی اک مرحلہ آنے کو ہے
کس نے رکھا ہے مِرے شانے پہ ہاتھ
مجھ میں کتنا حوصلہ آنے کو ہے
پرویز اختر
No comments:
Post a Comment