کشمیر میں اٹھی آوازوں کو بندوق سے کیسے کچل دو گے
بندوقیں ہی تو مسئلہ ہیں، بندوق سے تم کیا حل دو گے
جموں، لداخ، بلتستان، گلگت، کشمیر اک جسم، اک جاں
تم خونی لکیریں کھینچ لو پر تاریخ کو کیسے بدل دو گے
تمہیں دریا پانی چاہئے، بس تمہیں جنگل پربت پیارے ہیں
کیا دو کروڑ انسانوں کو زنجیر پہنا کر چل دو گے؟
ستر سالوں کے قبضے میں یہاں تم نے کتنی جنگیں لڑیں
جب آج ہے ہمارا لہو لہو ہمیں کون سا تم پھر کل دو گے
سمجھو اسے تو مسئلہ ہے آزادی، خود مختاری کا
غلامی کی الجھی ڈوروں کو قبضوں کے کتنے بل دو گے
کشمیر وطن کشمیریوں کا اب مان لو اور ذرا سوچو تو
خود جب بھوک و ننگ میں ہو ہمیں کون سا گنگا جل دو گے
ہارون اشفاق
No comments:
Post a Comment