Sunday, 11 April 2021

ہم اہل خرد کی باتوں سے کچھ چین جہاں میں پا نہ سکے

ہم اہل خرد کی باتوں سے کچھ چین جہاں میں پا نہ سکے

آج ایسی پلا دے اے ساقی! تا حشر ہمیں ہوش آ نہ سکے

حائل تھی اِدھر خودداریٔ دل مانع تھا غرور حسن اُدھر

محرومیٔ قسمت کیا کہیے ہم جا نہ سکے، وہ آ نہ سکے

ترکِ الفت کی باتیں تو سمجھائیں بہت ناصح نے ہمیں

جینے کا سہارہ کیا ہو گا یہ بات ذرا سمجھا نہ سکے

ہے کفر دیار الفت میں غم کے ہاتھوں نالاں ہونا

وہ نام محبت ہی کیوں لے جو تاب غموں کی لا نہ سکے

دل سنگدلوں سے جب الجھے قیمت اس کی بڑھ جاتی ہے

اس شیشے کی ہے قدر ہی کیا جو پتھر سے ٹکرا نہ سکے

دل کی دھڑکن پر ہوتا ہے دھوکا قدموں کی آہٹ کا

آواز تو آتی ہے پیہم پھر کیوں وہ ابھی تک آ نہ سکے

الجھی ہوئی گتھی ملنے کی کس طور سلجھتی اے ہمدم

کچھ ہم سے کوشش ہو نہ سکی کچھ زحمت وہ فرما نہ سکے

کیا کیا نہ ستم ہم پر ڈھائے اپنوں نے کرم کے پردے میں

پھر بھی ہم اس کا شکوہ تک اک بار زباں پر لا نہ سکے

وہ اس سے زیادہ کیا کرتے شیدا! تیری غم خواری میں

آنسو تو بہائے آنکھوں سے کچھ منہ سے مگر فرما نہ سکے


شیدا انبالوی

بنارسی داس

No comments:

Post a Comment