وفا کرے وفاؤں کی آس بھی رکھے
دل ہے دریا ہونٹوں پہ پیاس بھی رکھے
عجب روش ہے اس شخص کی جانے کیوں
درگزر بھی کرے دل میں پھانس بھی رکھے
کون کہتا ہے اسے مسکرانے کے لیے
دل ہے غمگین تو چہرہ اداس بھی رکھے
وہ چاہتا ہے ہواؤں کا رخ بدل جائے
اسے کہنا موسم کو راس بھی رکھے
ملی ہے دل میں جگہ اب یہ تمنا ہے
وہ مہرباں ہمیں نظروں کے پاس بھی رکھے
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment