Monday, 5 April 2021

وفا کرے وفاؤں کی آس بھی رکھے

 وفا کرے وفاؤں کی آس بھی رکھے

دل ہے دریا ہونٹوں پہ پیاس بھی رکھے

عجب روش ہے اس شخص کی جانے کیوں

درگزر بھی کرے دل میں پھانس بھی رکھے

کون کہتا ہے اسے مسکرانے کے لیے

دل ہے غمگین تو چہرہ اداس بھی رکھے

وہ چاہتا ہے ہواؤں کا رخ بدل جائے

اسے کہنا موسم کو راس بھی رکھے

ملی ہے دل میں جگہ اب یہ تمنا ہے

وہ مہرباں ہمیں نظروں کے پاس بھی رکھے


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment