Friday, 16 July 2021

کسی کے نام کو لکھتے ہوئے مٹاتے ہوئے

 کسی کے نام کو لکھتے ہوئے مٹاتے ہوئے

تمام رات کٹی خود کو آزماتے ہوئے

کہا یہ رات نے مجھ سے مجھے سُلاتے ہوئے

تُو تھک گئی ہے بہت حالِ دل سناتے ہوئے

میں کیوں سمیٹ نہیں پاتی ہوں کبھی اس کو

بکھر رہا ہے جو ہر پَل مجھے سجاتے ہوئے

یہ چاہتی تھی کہ میں طے کروں سفر اس کا

جو تھک گیا ہے مِرا حوصلہ بڑھاتے ہوئے

زمانہ لاکھ اسے کوستا رہے پھر بھی

بہار جنما ہمیشہ خزاں نے جاتے ہوئے


رشمی صبا

No comments:

Post a Comment