پہلی ملاقات کی پہلی نظم
لکھی جاتی ہے
ڈائری کے پنے پر
آنکھیں لو دیتی ہیں
قلم پاؤں پاؤں چلتا ہے
اور کلکاریاں گونجنے لگتی ہیں
ان دیکھے جذبوں کی
پہلی ملاقات کی پہلی نظم
آکاس بیل ہوتی ہے
لپٹ جاتی ہے
محبت کے تنومند شجر سے
اور پھیلتی چلی جاتی ہے
پہلی ملاقات کی پہلی نظم
ماہِ نیم ماہ کی طرح
طلوع ہوتی ہے
اور رات
حیرت سے
جھانکتی رہ جاتی ہے
پہلی ملاقات کی پہلی نظم
قطبی ستارہ ہوتی ہے
پیوست کر دیتی ہے
راستوں کے کنارے
اور لفظوں کے پاؤں
تھرکنے لگتے ہیں
پہلی ملاقات کی پہلی نظم
ہوتی ہے
ہرنی جیسی
اور دھڑکتا رہتا ہے
اس کا سراسیمہ دل
وہ نہیں جانتی
وہ چلتی ہے
تو کائنات تھم جاتی ہے
پہلی ملاقات کی پہلی نظم
آنکھ ہوتی ہے
جو تکتی رہتی ہے راستہ
ان گِنت ملاقاتوں کا
عارفہ شہزاد
No comments:
Post a Comment