Tuesday, 20 July 2021

پہلی ملاقات کی پہلی نظم لکھی جاتی ہے

 پہلی ملاقات کی پہلی نظم

لکھی جاتی ہے

ڈائری کے پنے پر

آنکھیں لو دیتی ہیں

قلم پاؤں پاؤں چلتا ہے

اور کلکاریاں گونجنے لگتی ہیں

ان دیکھے جذبوں کی

پہلی ملاقات کی پہلی نظم

آکاس بیل ہوتی ہے

لپٹ جاتی ہے

محبت کے تنومند شجر سے

اور پھیلتی چلی جاتی ہے

پہلی ملاقات کی پہلی نظم

ماہِ نیم ماہ کی طرح

طلوع ہوتی ہے

اور رات

حیرت سے

جھانکتی رہ جاتی ہے

پہلی ملاقات کی پہلی نظم

قطبی ستارہ ہوتی ہے

پیوست کر دیتی ہے

راستوں کے کنارے

اور لفظوں کے پاؤں

تھرکنے لگتے ہیں

پہلی ملاقات کی پہلی نظم

ہوتی ہے

ہرنی جیسی

اور دھڑکتا رہتا ہے

اس کا سراسیمہ دل

وہ نہیں جانتی

وہ چلتی ہے

تو کائنات تھم جاتی ہے

پہلی ملاقات کی پہلی نظم

آنکھ ہوتی ہے

جو تکتی رہتی ہے راستہ

ان گِنت ملاقاتوں کا


عارفہ شہزاد

No comments:

Post a Comment