حدودِ صحنِ گُلشن سے یہ دیوانے کہاں جاتے
اگر جاتے یہ دل والے تو پہچانے کہاں جاتے
ہُوا اچھا کہ محفل میں وہ ہم سے دُور بیٹھے ہیں
وگرنہ، ہم دلِ مُضطر کو سمجھانے کہاں جاتے
پرستش کی تمنا بت تراشی پر ہوئی مائل
اگر آزر نہ بنتے ہم تو بت خانے کہاں جاتے
ہمیں دیکھا سرِ محفل تو نظریں جُھک گئیں اُن کی
نظر ملتی اگر ہم سے تو شرمانے کہاں جاتے
ہمارے دَم سے سارے مےکدوں کا ہے بھرم ساقی
نہ ہوتے ہم تو مے خانے خدا جانے کہاں جاتے
اگر ہم مے کدے میں بادہ و ساغر نہ چھلکاتے
تو پیمانوں کا کیا ہوتا، یہ مے خانے کہاں جاتے
خِرد والے تو اکثر اپنا گُلشن چھوڑ دیتے ہیں
حسن گُلشن کے دیوانے ہیں، دیوانے کہاں جاتے
حسن چشتی
No comments:
Post a Comment