Tuesday, 20 July 2021

تھکن کو جام کریں آرزو کو بادہ کریں

 تھکن کو جام کریں آرزو کو بادہ کریں

سکون دل کے لیے درد کا اعادہ کریں

ابھرتی ڈوبتی سانسوں پہ منکشف ہو جائیں

سُلگتی گرم نگاہوں کو پھر لبادہ کریں

بچھائیں دشت نوردی جنوں کی راہوں میں

فراق شہر رفاقت میں ایستادہ کریں

تمہارے شہر کے آداب بھی عجیب سے ہیں

کہ درد کم ہو مگر آہ کچھ زیادہ کریں

یہ سرد رات نگل لے گی ساعتوں کا وجود

جلائیں شاخ بدن اور استفادہ کریں


راغب اختر

No comments:

Post a Comment