یہ آنکھیں کیوں ہوئیں نم جانتا ہے
وہ میرے سارے موسم جانتا ہے
تعارف کا کہاں محتاج ہوں میں
مجھے دنیا کا ہر غم جانتا ہے
کچھ اس کے زخم کا اندازہ کیجے
جو نشتر ہی کو مرہم جانتا ہے
اسے خاموشیاں کیسے سنائیں
جو چیخوں کو بهی مبہم جانتا ہے
فدا ہے آپ اپنے عکس پر جو
وہ خود کو کس قدر کم جانتا ہے
اٹھایا کیسے بارِ زندگانی
خدایا! بس مِرا دَم جانتا ہے
راجیش ریڈی
No comments:
Post a Comment