Sunday, 11 July 2021

یہ آنکھیں کیوں ہوئیں نم جانتا ہے

 یہ آنکھیں کیوں ہوئیں نم جانتا ہے

وہ میرے سارے موسم جانتا ہے

تعارف کا کہاں محتاج ہوں میں

مجھے دنیا کا ہر غم جانتا ہے

کچھ اس کے زخم کا اندازہ کیجے

جو نشتر ہی کو مرہم جانتا ہے

اسے خاموشیاں کیسے سنائیں

جو چیخوں کو بهی مبہم جانتا ہے

فدا ہے آپ اپنے عکس پر جو

وہ خود کو کس قدر کم جانتا ہے

اٹھایا کیسے بارِ زندگانی

خدایا! بس مِرا دَم جانتا ہے


راجیش ریڈی

No comments:

Post a Comment