ذرا چاند کے نکلنے تک
دھوپ کا صحرا ڈھلنے تک
خزاں کے ناز اٹھائے دل
موتیے کے پھول کھلنے تک
کچھ دیر تو ٹھہرو اجنبی
یہ عمرِ رواں گزرنے تک
دل اوجِ کمالِ دید چاہے
دم آخر کے نکلنے تک
رات کالی مر ہی جائے گی
مِرا سیم تن پگھلنے تک
بس جنوں کے سلسلے ہیں
فاری انالحق کہنے تک
فاریہ حمید
No comments:
Post a Comment