وہ اور میرا اپنا ہو گا
سپنا کیونکر سچا ہو گا
اس کے پاؤں کی چاپ کہاں ہے
کوئی سوکھا پتا ہو گا
کل تم میرے گھر آئے تھے
چھوڑو کوئی سپنا ہو گا
لوگوں سے کیا لینا دینا
اپنا گھڑا ہی کچا ہو گا
مول نہ دیکھے دام نہ دیکھے
دل سا کوئی بچہ ہو گا
وہ پردیس سے آ جائے تو
ہائے کتنا اچھا ہو گا
طلعت اخلاق احمد
No comments:
Post a Comment