Friday, 16 July 2021

رنج اک تلخ حقیقت کا فقط ہے مجھ کو

 رنج اک تلخ حقیقت کا فقط ہے مجھ کو

میرے احباب نے آنکا ہی غلط ہے مجھ کو

بعد مدت کے گلابوں کی مہک آئی ہے

اس نے پردیس سے بھیجا کوئی خط ہے مجھ کو

حرف کی شکل میں ڈھلتی ہیں لکیریں خود سے

آ کے دیتا کوئی پیغام نقط ہے مجھ کو

کر دیا کند ہواؤں کی نمی نے جس کو

اسی خنجر سے لگانا کوئی قط ہے مجھ کو

کنجِ تاریک میں یوں جھانک رہا ہوں راحت

جیسے درکار کوئی بیضۂ بط ہے مجھ کو


راحت حسن

No comments:

Post a Comment