Friday, 9 July 2021

جو نعت میں بنے وہ زاویے بھی روئے تھے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 جو نعت میں بنے وہ زاویے بھی روئے تھے

تخیلات کے سب دائرے بھی روئے تھے

میں جب بھی سوچتا ہوں، کپکپا سا جاتا ہوں

حضور آپﷺ مِرے واسطے بھی روئے تھے

میں ایسے رو پڑا تھا ان کے در سے دوری پر

کہ میرے ساتھ سبھی فاصلے بھی روئے تھے

درودِ پاکﷺ کو بین السطور میں نے لکھا

سو مجھ سے ہو کے خفا حاشیے بھی روئے تھے

نمی سی آ گئی کاغذ پہ نعتﷺ لکھتے سمے

کہ بس اویس نہیں، قافیے بھی روئے تھے


اویس رشید

No comments:

Post a Comment