کل شب عجیب درد عجب اضطراب تھا
گریہ کناں سا آنکھ میں آذردہ خواب تھا
بنتا رہا نشانہ مِرے انتقام کا
اک آئینہ جو گھر میں مجھے دستیاب تھا
انسانیت کی روندی ہوئی لاش کل ملی
آنکھیں ابل رہی تھیں جگر پر حباب تھا
وہ تیری بے رخی وہ تغافل وہ احتیاط
تیری ادا نہیں تھی تِرا اجتناب تھا
وحشت تھی بوکھلائی ہوئی بال نوچتی
اک زخم بارگاہِ جنوں بازیاب تھا
خیرات دینے والے کبھی یہ بھی سوچتے
اُدھڑے ہوئے دلوں کا رفو بھی ثواب تھا
صحرا نے مرتے مرتے فرشتے کو سونپ دی
اک پوٹلی کہ جس میں سسکتا سحاب تھا
بشریٰ شاہ
بشریٰ شہزادی
No comments:
Post a Comment