چاند کی چاندنی سے دھیان ہٹے
پھول کی دلکشی سے دھیان ہٹے
دشت میں چل کے گھر بساتے ہیں
شہر کی بے رُخی سے دھیان ہٹے
آؤ مصروف ہوں اذیت میں
دو گھڑی کی خوشی سے دھیان ہٹے
سارے نقصان یاد آتے ہیں
جب کبھی میکشی سے دھیان ہٹے
چھیڑئیے ذکر اُن کی زلفوں کا
رات کی تیرگی سے دھیان ہٹے
دو قدم ساتھ چلنے والوں کی
گہری افسردگی سے دھیان ہٹے
یہ بھلا کیسے یار ممکن ہے
رائیگاں زندگی سے دھیان ہٹے
فیصل امام رضوی
No comments:
Post a Comment