حد سے بڑھا ہوا ہے مِرا اضطرابِ عشق
کر دے جلا کے راکھ مجھے آفتابِ عشق
واللہ، پھر قدم نہ کبھی ڈگمگائیں گے
پی لیجیۓ جناب ذرا سی شرابِ عشق
یہ کیا کہ روز ایک ہی عنوانِ گفتگو
حضرت بیان کیجیۓ ایک دن ثوابِ عشق
مفہومِ عشق آہ کوئی جانتا نہیں
قرآن بھی ہے میری نظر میں کتابِ عشق
اتنا بھی عشق عشق نہیں کیجیۓ صبا
کہنے لگے گی آپ کو دنیا جنابِ عشق
کامران غنی صبا
No comments:
Post a Comment