Thursday, 21 October 2021

ماں مروت پیار شفقت مامتا ایثار قربانی

 ماں


مروت، پیار، شفقت، مامتا، ایثار، قربانی

ملایا پھر خدا نے اس میں اپنی مہر کا پانی

ملائم کر دیا مٹی کو ان سارے عناصر سے

سبھی جذبات اس میں گُھل گئے ہیں جب تواتر سے

تو اس مٹی سے ڈھالی اک حسیں مُورت

رکھا پھر سر پہ اس کے تاجِ عظمت

اور اس کے پاؤں کے نیچے رکھی انسان کی جنت

ہر اک رشتے میں اس کا مرتبہ اعلیٰ

سبھی جذبوں پہ بھاری مامتا اس کی

نہ ہو گا حق ادا اس کا کسی سے

جنم دیتے ہوئے جو آہ نکلی تھی زباں سے

کہ جب اک جان کے اندر سے اک اور جاں نکلتی ہے

اجل اور زیست میں باہم مسلسل جنگ چلتی ہے

ہر اک لمحہ یہاں پر جاں بحق ہونے کا خطرہ ہے

مسلسل، پے بہ پے، شدت سے، رہ رہ کر

نہ جانے درد کے کتنے ہی نیزے وار کرتے ہیں

درونِ جاں اسے مسمار کرتے ہیں

جنم لیتی ہے تب جا کر نئی اک روح دنیا میں

اور اس کے لمس سے بیتی اذیت بھول جاتی ہے

کبھی صدقہ اتارے ہے، کبھی خود واری جاتی ہے

ٹھٹھرتی سرد راتوں میں وہ خود گیلے پہ سوتی ہے

جو کانٹا بھی چبھے اُس کو اِسے تکلیف ہوتی ہے

غریبی میں بھی اُس کے واسطے آنچل میں سکے ہیں

کبھی تھی موم کی گڑیا وہ اب چٹان کی صورت

حفاظت کے لیے بچے کی ٹکراتی ہے دنیا سے

مگر اپنے ہی جائے کی زباں سے زخم جو آئے

یہ مُورت ٹوٹ جاتی ہے، یہ مُورت ٹوٹ جاتی ہے


تبسم اعظمی

No comments:

Post a Comment