عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فردوسِ بریں ہے کہ مدینے کی گلی ہے
اس شہرِ پُر انوار کا ہر شخص ولی ہے
اپنوں سے محبت ہے تو غیروں سے مروت
یہ رسمِ دلآویز مدینے سے چلی ہے
سرمایۂ ہستی ہے فقط ذکرِ مدینہ
باقی جو ہے دنیا میں وہ آشفتہ سری ہے
کونین کا ہر ذرہ ہے محتاج اسی کا
رحمت کی گھٹا جُھوم کے طیبہ سے اٹھی ہے
سرکار کی رحمت کا یہ اعجاز ہے فرخ
بگڑی جو بنی ہے تو مدینے میں بنی ہے
سعید الرحمٰن فرخ
No comments:
Post a Comment