تِری یاد شِدت سے آنے لگی ہے
سرِ شام پھر سے رُلانے لگی ہے
چلو پھر سے سودا کرو زندگی کا
یہ ظالم مجھے آزمانے لگی ہے
مِری زندگی کی ہر اک لہر دیکھو
مجھے ساتھ اپنے بہانے لگی ہے
تِرے ہجر مِیں دیکھ کر مجھ کو جلتا
اُداسی بھی اب مُسکرانے لگی
ہوس کی گلی مِیں گِرا منہ کے بل جو
اُسے موت آ کر اُٹھانے لگی ہے
مِرے ہاتھ کی چائے تم پی کے جانا
محبت سے پگلی بنانے لگی ہے
بتاؤ اسے آنسوؤں کی شرارت
جو آنکھوں مِیں کاجل لگانے لگی ہے
سمیرا سلیم کاجل
No comments:
Post a Comment