دواؤں اور دعاؤں میں پھنسی ہے
حیات ان دو بلاؤں میں پھنسی ہے
تنوں کا بے ردا شاخوں پہ ماتم
خزاں قاتل ہواؤں میں پھنسی ہے
یہ گھوڑا سر جھکا کر چل رہا ہے
گلے کی رسی پاؤں میں پھنسی ہے
کوئی پاگل کسی پاگل سے پوچھے
ذہانت کن داناؤں میں پھنسی ہے
اٹھارہ سال اک کرتے کو ٹانکا
زلیخا جب قباؤں میں پھنسی ہے
میں جنت سے ابھی نکلا ہوں ساقی
یہ دیکھو مٹی پاؤں میں پھنسی ہے
شہر میں اس کی غیرت پھر رہی ہے
شریعت جس کی گاؤں میں پھنسی ہے
علی اعجاز سحر
سحر ستانوی
No comments:
Post a Comment