شب ڈھل گئی پہ وقت سحر آ نہیں رہا
سورج بھی تیرگی سے نکل پا نہیں رہا
اس کیفیت کی کوئی وضاحت کرے مجھے
نیند آ رہی ہے، خواب مگر آ نہیں رہا
کہتا ہے چھوڑ کر تجھے کچھ دن کے واسطے
کچھ دور جا رہا ہوں، کہیں جا نہیں رہا
کیوں ڈر ہی ہے مجھ سے مِری جان تجھ سے میں
بس بات کر رہا ہوں تجھے کھا نہیں رہا
اب تیرے خواب دیکھوں گا فرصت سے رات دن
اب تو مِرا مکان بھی کچا نہیں رہا
سارے منافقین اسے بھا گئے اویس
لیکن جو صاف گو ہے اسے بھا نہیں رہا
اویس احمد
No comments:
Post a Comment