Wednesday, 23 March 2022

جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ

 جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ

ہوائے تند! رُک، بُجھا نہ تو غریب کا چراغ

درِ رسولﷺ پر جھکا ہوا ہوں پھر سے کبریا

عطا ہو خاک زاد کو تِرے حبیبﷺ کا چراغ

جہاں میں جس نے روشنی کو زاویے کئی دئیے

کہ اس جہاں میں کیوں بُجھے گا اس ادیب کا چراغ

تم اپنی اپنی ذات سے الجھ کے ہو گئے فنا

نشاں مگر ہے عزم کا یہاں حسیب کا چراغ

اتا، پتا کوئی تو ان کو خضر کا عطا کرے

جو لے کے چل رہے ہیں ہاتھ میں نقیب کا چراغ

شبِ فراق، جاں مِری لیے بغیر کب ٹلی 

نہ طاہر اب کے جل سکا مِرے طبیب کا چراغ


طاہر حنفی

No comments:

Post a Comment