Wednesday, 23 March 2022

کس شور جہنم میں فضا ڈوب چلی ہے

 کس شور جہنم میں فضا ڈوب چلی ہے

دل دھڑکے ہے سینے میں نوا ڈوب چلی ہے

وہ خون کی موجیں ہیں ہر اک سُو کہ کمر تک

فرخندہ جمالوں کی قبا ڈوب چلی ہے

وہ حبس کا عالم ہے کہ ہر سانس ہے گھائل

کیا ذکر ہُوا نبض‌ِ ہوا ڈوب چلی ہے

کیا جانئے کس گوشے سے اُمڈی ہے سیاہی

کیا کہئے کہ کرنوں کی رِدا ڈوب چلی ہے

اس شور میں کیا کوئی سنے گا مِری آواز

جس شور میں ماتم کی صدا ڈوب چلی ہے


خورشید الاسلام

No comments:

Post a Comment