بہت مجبور دیکھے ہیں مگر ایسے نہیں ہوتے
منافق لوگ ہوں بھی تو تِرے جیسے نہیں ہوتے
محبت کرنے والے ظرف کی خاطر
نظر انداز کرتے ہیں، مگر اندھے نہیں ہوتے
وہ میرے دشمنوں کو پیار ایسے پیش کرتا ہے
کہ جیسے یار اس کے ساتھ ہم بیٹھے نہیں ہوتے
ذرا سی بات پر باتیں بنانا تم کو آتا ہے
تمہارے ساتھ ہم بدلیں تو پھر بدلے نہیں ہوتے
گھڑے نے یار جس دن سے محبت کو ڈبویا ہے
مِرے گاؤں میں اس دن سے گھڑے کچے نہیں ہوتے
آکف صدیقی
No comments:
Post a Comment