Tuesday, 5 April 2022

چور لوگوں کی سیاست نے جگر چیر دیا

 چور لوگوں کی سیاست نے جگر چیر دیا 

تخت سے ان کی محبت نے جگر چیر دیا 

پہلے والوں کی کرپشن کے ستم اپنی جگہ 

میرا تو تیری دیانت نے جگر چیر دیا 

بدمعاشی نے کیا پہلے مِرا دل ٹکڑے 

اور اس بار شرافت نے جگر چیر دیا 

جس کو آگے کا نہ کچھ علم نہ پیچھے کا پتہ 

ایک جاہل کی حکومت نے جگر چیر دیا 

میں نے لوگوں سے بچایا تھا بڑی مشکل سے 

آج پیٹرول کی قیمت نے جگر چیر دیا 

میرے اجڑے ہوئے لوگوں کی زبوں حالی پر 

شعر کیا لکھا ہے فرحت نے جگر چیر دیا 


فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment