چور لوگوں کی سیاست نے جگر چیر دیا
تخت سے ان کی محبت نے جگر چیر دیا
پہلے والوں کی کرپشن کے ستم اپنی جگہ
میرا تو تیری دیانت نے جگر چیر دیا
بدمعاشی نے کیا پہلے مِرا دل ٹکڑے
اور اس بار شرافت نے جگر چیر دیا
جس کو آگے کا نہ کچھ علم نہ پیچھے کا پتہ
ایک جاہل کی حکومت نے جگر چیر دیا
میں نے لوگوں سے بچایا تھا بڑی مشکل سے
آج پیٹرول کی قیمت نے جگر چیر دیا
میرے اجڑے ہوئے لوگوں کی زبوں حالی پر
شعر کیا لکھا ہے فرحت نے جگر چیر دیا
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment