Tuesday, 5 April 2022

عکس قدرت کو سبوتاژ نہیں کر سکتی

 عکسِ قدرت کو سبوتاژ نہیں کر سکتی

آنکھ حیرت کو سبوتاژ نہیں کر سکتی

مل بھی جائے مجھے دنیا کی محبت لیکن

اس محبت کو سبوتاژ نہیں کر سکتی

گھر کے آنگن میں اگائی ہوئی آوارہ ہنسی

ساری وحشت کو سبوتاژ نہیں کر سکتی

آگہی باعثِ دیوانگی کب ہے مجھ پر

روشنی چھت کو سبوتاژ نہیں کر سکتی

آخرش آن پڑی رُت یہ بچھڑنے والی

اب تُو ہجرت کو سبوتاژ نہیں کر سکتی


دانش حیات

No comments:

Post a Comment