Thursday, 14 April 2022

ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ

 ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ

جس طرح جسم کو سانسوں کی حرارت زندہ

شوق کی راہ میں اک ایسا بھی پل آتا ہے

جس میں ہو جاتی ہے صدیوں کی ریاضت زندہ

روز اک خوف کی آواز پہ ہم اٹھتے ہیں

روز ہوتی ہے دل و جاں میں قیامت زندہ

اب بھی انجان زمینوں کی کشش کھینچتی ہے

اب بھی شاید ہے لہو میں کہیں ہجرت زندہ

طاعت جبر بہت عام ہوئی جاتی تھی

ایک انکار نے کی رسم بغاوت زندہ

ہم تو مر کر بھی نہ باطل کو سلامی دیں گے

کیسے ممکن ہے کہ کر لیں تِری بیعت زندہ

ہم میں سقراط تو کوئی نہیں پھر بھی شہباز

زہر پی لیتے ہیں رکھتے ہیں روایت زندہ


شہباز خواجہ

No comments:

Post a Comment