Thursday, 14 April 2022

روح کے جلتے خرابے کا مداوا بھی نہیں

 روح کے جلتے خرابے کا مداوا بھی نہیں

درد وہ بادل ہے جو کھل کر برستا بھی نہیں

شہر کے زنداں نے پہنا دیں وہ زنجیریں مجھے

میری وحشت کو میسر دل کا صحرا بھی نہیں

جس میں بہہ جائے سفینے کی طرح میرا وجود

میری آنکھوں سے رواں غم کا وہ دریا بھی نہیں

کرب کا سورج سوا نیزے پہ ہے ٹھہرا ہوا

دل مِرا ہے برف زار ایسا، پگھلتا بھی نہیں

مجھ کو یکجائی کی حسرت سے بھلا کیا واسطہ

میں تو جی بھر کر سرِ آفاق بکھرا بھی نہیں

مدتوں در پر مِرے وہ دستکیں دیتا رہا

میں مگر وہ نیند کا ماتا کہ چونکا بھی نہیں


عارف عبدالمتین

No comments:

Post a Comment