برمودا کی نیک مثلث جیسی ہو
مجھ کو کھینچا ہے تو خود میں ڈوبی ہو
دوزخ کی ہو آگ، مصلیٰ جنت کا
دو جسموں کی ایک قضائے عمری ہو
یہ بنجارہ تیری چوکھٹ چومے گا
رب چاہے گا تیری سیپ میں موتی ہو
پیتل کے پیالے میں ماہی دن لادے
پیپل کی چھاؤں میں سرخ صبوحی ہو
میں پنجاب کے دریاؤں کی بھوکی پیاس
تم کشمیری جھرنوں جیسی لڑکی ہو
اکثر تو کھڑکی کے رستے کود کے تم
دروازے کی حاجت زندہ رکھتی ہو
کُن سے ہو کے آئے یار کلوننگ تک
دل حسنی کا طور سے کوہ چاغی ہو
ذوالقرنین حسنی
No comments:
Post a Comment