عمر بڑھتی جا رہی ہے زیست گھٹتی جائے ہے
جسم کی خوشبو کی خواہش دور ہٹتی جائے ہے
سوچ میں بھی اب نہیں پہلا سا تیور اور لوچ
شوق کی دیوار گردِ غم سے اٹھتی جائے ہے
بے مزہ ہونے لگی ہے زندگی بعد شباب
رات ابھی باقی ہے لیکن نیند اچٹتی جائے ہے
آ رہی ہے سُکھ ملن کی چمپئی اجلی سحر
دُکھ کی یہ بے چین اندھیری رین کٹتی جائے ہے
یاس کے حساس لمحوں میں بھی ہے کتنا سرور
شاہدہ امید کی مجھ سے لپٹتی جائے ہے
کام کی افراط میں دفتر کے ہنگاموں میں بھی
تیری یاد آئے توجہ میری بٹتی جائے ہے
ہے بدن چور اور کومل کس قدر چِت چور شام
جیسے شرمیلی دلہن خود میں سمٹتی جائے ہے
ہے وہ چنچل کامنی محبوب سارے شہر کو
دیکھ کر جس کو نظر میری پلٹتی جائے ہے
بابِ حسرت، داستانِ شوق، تصویرِ امید
لمحہ لمحہ زندگی اوراق الٹتی جائے ہے
جاگ اٹھی ہے جیو جیوتی آس اور وشواس کی
کرشن موہن! کالما دبدھا کی چھٹتی جائے ہے
کرشن موہن
رین= رات
چت چور=دلربا، دلفریب، لبھاؤ سے بھرپور
جیو= جیون
جیوتی= روشنی، چراغ کی لو
کالما= دھول، دھواں
دبدہا= گومگو، کنفیوژن
No comments:
Post a Comment