جیت لے جو بھی تجھے اس کا خسارا کیسا
کوئی دل ہار کے ہارا، تو وہ ہارا کیسا
کچھ لوگ ہیں، مدت ہوئی دیکھے نہ ملے ہیں
کیا بات ہے، وہ دل سے نکالے نہیں جاتے
بہت دیا ہے خدا نے تِری کمی ہے بہت
میں ہنس رہی ہوں مِری آنکھ میں نمی ہے بہت
یہ اتفاق عجب ہے کہ نام تیرا ہے
وہ شخص اور ہے جس سے ہمیں محبت ہے
یہ کیا ہوا ہر اک نگاہ بے ثبات ہو گئی
کوئی تو چیز چِھن گئی کوئی تو بات ہو گئی
اس کی بے لوث محبت کا یقیں کیسے ہو
وہ ہے سادہ سا، مگر پورا اداکار بھی ہے
جانتا کون ہے اس شخص کے اسرارِ خودی
جاں بھی پیاری ہے اسے، مرنے پہ تیار بھی ہے
عرفانہ امر
No comments:
Post a Comment