جس پتھر تک ہاتھ نہ پہنچے، وہ پربت کہلائے
جس پتھر کو کاٹ سکیں ہم، وہی خدا بن جائے
جس پتھر تک ہاتھ نہ پہنچے اس پر بھجن حرام
جس پتھر کو چوم سکیں ہم، پربھو اسی کا نام
جس پتھر کو کاٹ سکیں ہم اس پر سنکھ بجائیں
اس پتھر پر امرت چھڑکیں، اس کو تِلک لگائیں
اس پتھر پر گاؤں کا باشی گنگا جل ٹپکائے
اس پتھر پر صبح سویرے اوشا پھول چڑھائے
اس پتھر پر سانجھ کی بیلا رجنی دیپ جلائے
نوشاد نوری
No comments:
Post a Comment