محبت نظم ہوتی تو
میں اس کی نیلگوں الہامیہ سطروں میں
تشبیہات کے ایسے ادا سے لفظ رکھ دیتا
جنہیں اک غمزدہ پڑھتا
تو اس کا غم چھلک پڑتا
میں اس کی ساری ترکیبوں کو
یوں ترتیب دے دیتا کہ ان کو وقت کا قاری
اگر پڑھتا تو اس کی خشمگیں آنکھوں میں
گہرے زخم اُگ آتے
سسکتے ہانپتے لفظوں میں ایسا رنگ بھر دیتا
جسے قوسِ قزح کی آٹھویں صورت گنا جاتا
مگر اچھا ہوا شاید
محبت نظم کی صورت نہیں اتری
وگرنہ کل کا قاری جب مجھے پڑھتا
تو اپنا فیصلہ لکھتے ہوئے یکسر
مجھے بے رحم لکھ دیتا
محبت نظم ہو جاتی تو
میرے بعد کے نقاد اور قاری کے ہاں
میرے اذیت ناک لفظوں پر
گرفتاری کا سب سامان ہو جاتا
محبت نظم ہوتی تو
بہت نقصان ہو جاتا
میثم علی آغا
No comments:
Post a Comment