Thursday, 9 March 2023

بس ایک ماں ہے جو سکھ میں پڑی نہیں ہو گی

 بس ایک ماں ہے جو سُکھ میں پڑی نہیں ہو گی

کسی بھی شے کی مِرے گھر کمی نہیں ہو گی

پلٹ پلٹ کے میں تکتا تھا اس لیے سب کو

مجھے خبر تھی مِری واپسی نہیں ہو گی

گزرنے والوں نے رستے بدل لیے ہوں گے

اور اب وہ کھڑکی یقیناً کُھلی نہیں ہو گی

یہ کرب آنکھیں مِری سوکھنے نہیں دیتا

کہ میرے بعد بھی اب روشنی نہیں ہو گی 

میں جس کے واسطے پردیس کاٹتا ہوں ابھی

پلٹ کے جاؤں گا گھر تو وہی نہیں ہو گی 


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment