جب وقت صفر پر آ جاتا ہے
بندوق کی نال
میری پھڑکتی ہوئی کنپٹی کو
سہلا رہی ہے
دلآویز ترین عطر
چھپ جاتے ہیں
بارود کے آرام بخش عطر کے پیچھے
یہاں تک کہ
ماں کی آغوش کی خوشبو
بارود کی بو میں
ہاتھ پاؤں مارنے لگتی ہے
ٹرگر کو جنبش ہوتی ہے
اور گر جاتی ہے
دیوارِ خاطرات
کسی دھندلے مستقبل کے اوپر
اور گولی کا بھونڈا لمس
آگ لگا دیتا ہے
میرے افکار کے انبار کو
اور دمِ بازپسیں
جب تمام لحظے سیاہ ہوتے ہیں
اور وقت صفر پر آ جاتا ہے
حجاز مہدی
مہدی نقوی حجاز
No comments:
Post a Comment