پینا تو یہ ہے آنکھوں سے آنکھیں ملا کے پی
آنکھوں میں اپنے شیخ کا، نقشہ جما کے پی
سُنتے ہیں رِند ہوتے تکلف سے بے نیاز
ساغر کو توڑ منہ سے صراحی لگا کے پی
توہینِ بادہ نوشی ہے جو چُھپ کے تُو پئے
قانونِ مے کشی کے مخالف نہ جا کے پی
کیا رنگ لائے گی یہ تیری شانِ مے کشی
اپنی نظر کسی کی نظر سے مِلا کے پی
دیکھے گا ذرے ذرے میں تُو جلوہ گر اسے
ایسی تصوّرات کی دنیا بسا کے پی
سجدے سجود چھوڑ دے ساقی کا نام لے
زاہد تُو پارسائی کے جھگڑے مِٹا کے پی
ساقئ بے نیاز کے صدقے سے اے امیر
جامِ شراب ملتا ہے سر کو جُھکا کے پی
امیر بخش صابری
No comments:
Post a Comment