عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت
تِرے صدقے تِرے قربان جاؤں یا رسول اللہﷺ
دو عالم میں نہ کوئی تم سا پاؤں یا رسول اللہﷺ
بھلا کیوں غیر کو نظروں میں لاؤں یا رسول اللہ
تمہارا ہوں، تمہارے در پہ آؤں یا رسول اللہ
کہانی خود زبانی آ سناؤں یا رسول اللہ
مِری فریاد سن لو حضرت حسینؑ کا صدقہ
علیؑ شیرِ خدا کے عین نورالعین کا صدقہ
جنابِ فاطمہؑ کے خاص دل کے چین کا صدقہ
عطا مجھ کو بھی ہو کچھ دولتِ کونین کا صدقہ
کہاں تک ٹھوکریں غیروں کی کھاؤں یا رسول اللہ
تمہارے گنبدِ خضرا کی جس دم یاد آتی ہے
دلِ بے تاب پر گویا قیامت اک ڈھاتی ہے
نہ ویرانے میں رہتا ہوں نہ بستی مجھ کو بھاتی ہے
مِرے ارمانوں کی دنیا ہوئی برباد جاتی ہے
کہاں تک ہجر کے صدمے اٹھاؤں یا رسول اللہ
مدینے جانے والے مِرے دل کو تھام لیتا جا
ہوا ہے عشق میں جو کچھ مِرا انجام لیتا جا
یہ منزل عشق کی ہے بوسۂ ہر گام لیتا جا
امیر صابری کا دکھ بھرا پیغام لیتا جا
بلاؤ تو لگی دل کی بجھاؤں یا رسول اللہ
امیر بخش صابری
No comments:
Post a Comment