عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت
مرکز کا سُوئے قوس سفر کیسا لگے گا
دریا کا سُوئے تشنہ گزر کیسا لگے گا
جو پہلی ہی منزل میں تھا مسجود ملائک
معراج کی شب کو وہ بشر کیسا لگے گا
افلاک کی یخ بستہ و بے رنگ فضا میں
بجتا ہوا جذبوں کا گجر کیسا لگے گا
سدرہ پہ یہ جبریلؑ امیں سوچ رہا ہے
امت کے تہِ پا مِرا پر کیسا لگے گا
رہتے تھے جو آغوش تخیل میں ہمیشہ
آ جائیں اگر پیش نظر کیسا لگے گا
ہونٹوں پہ میرے شکوۂ ہجراں کا تسلط
ایسے میں وہ آ جائیں اگر کیسا لگے گا
آئیں گے نظر بھی تو خبر کس کو رہے گی
کیا جانیۓ وہ رشکِ قمر کیسا لگے گا
تعظیم کو خم ہوتی کمر کیسی لگے گی
دیدار کو اٹھتا ہوا سر کیسا لگے
نذر صابری
No comments:
Post a Comment