روز خود کو ترے قدموں میں پڑے دیکھتا ہوں
آدمی چھوٹا سہی،۔ خواب بڑے دیکھتا ہوں
لوگ ساحل پہ کھڑے کہتے ہیں سب جھوٹ تھا جھوٹ
اور میں آج بھی دریا میں گھڑے دیکھتا ہوں
گریہ کرتا ہوں عزاداری بھی ان کی خاطر
جن درختوں کے بھی میں پتے جھڑے دیکھتا ہوں
اس سلیقے سے نکلتا ہے سنور کر وہ شخص
شہر بھر کو میں قطاروں میں کھڑے دیکھتا ہوں
آج سُوکھی ہوئیں ہیں آنکھیں خلافِ معمول
ورنہ ہر روز یہ دریا میں چڑھے دیکھتا ہوں
پھول کھلتے ہیں ترو تازہ مِرے اندر روز
زخم ہر وقت نئے دل میں جڑے دیکھتا ہوں
میرا نعرہ ہے فقط نعرۂ ترویجِ ادب
لابیاں حلقے ہیں میرے نہ دھڑے دیکھتا ہوں
روئے تو آنکھوں تلے رکھتا ہوں میں دونوں ہاتھ
اور ہنسے جب وہ تو گالوں کے گڑھے دیکھتا ہوں
فقیہہ حیدر
No comments:
Post a Comment