عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
جس درجہ محبت تھی صحابہ کو نبیﷺ سے
اس درجہ نہ کی ہو گی کسی نے بھی کسی سے
پائی ہے خودی پھول نے شبنم کی نمی سے
بلبل کا ترنم بھی ہے رنگ چمنی سے
گر مردِ خدا چھوڑ دے اندیشۂ افلاک
پتھر بھی پگھل سکتا ہے احساسِ خودی سے
قومیں جو بنا کرتی ہیں کردار و عمل سے
برباد بھی ہوتی ہیں وہی بُوالہوسی سے
اے مردِ خدا کام تِرا ہے انہیں دو سے
اک ولولۂ تازہ، دوئم خوش نظری سے
کیا کیا نہ تغیّر ہوئے افلاک و زمیں پر
آقائے دو عالمﷺ تِری بس خوش نگہی سے
اسرار بھی اسرار نہ رہ پائے جہاں میں
سرکار دو عالمﷺ کی وسیع النظری سے
لمحوں میں مٹا سکتا ہے یہ ظلمت پیہم
لے کام جو مومن کہیں بالغ نظری سے
روپوش ہوئے ظلمت پیہم کے لٹیرے
عالم میں ضیا پھیلی جو نور ازلی سے
جس ذکر شبی سے نہ ملے فقر کی منزل
بہتر ہے یہ خاموشی ہی اس ذکر شبی سے
کیا پوچھ رہے ہو مِرے سرکارﷺ کی سیرت
دشمن سے ملے بھی تو ملے خندہ لبی سے
ہندی ہوں حجازی ہوں کہ ہوں رومی و مصری
پائی ہے ضیا سب نے ہمارے ہی نبیﷺ سے
طہٰ ہو کہ یاسین ہو یا سورۂ رحمٰن
منسوب ہے ہر ایک ہمارے ہی نبیﷺ سے
بتلائیں گے خود طائف و بطحیٰ کے نواسی
کیا کیا نہ ملا ان کو مدینہ کے دھنی سے
تا عمر نہ لے نام وہ فردوس کا عبرت
اک بار گزر جائے جو طیبہ کی گلی سے
عبرت بہرائچی
No comments:
Post a Comment