Friday, 29 September 2017

کیوں نہ مجھ کو جان سے پیارے ہوں زخموں کے چراغ

کیوں نہ مجھ کو جان سے پیارے ہوں زخموں کے چراغ
یہ نشانی کی نشانی ہیں، چراغوں کے چراغ
قصرِ شاہی میں بپا تھا جشنِ مرگِ روشنی
آندھیاں جب چاٹتی پھرتی تھیں خیموں کے چراغ
شوق جلنے کا ہمیں، ارباب کو بجھنے کا ڈر
ہم منڈیروں کے دیئے وہ بند کمروں کے چراغ

بہت عرصہ گنہگاروں میں پیغمبر نہیں رہتے

بہت عرصہ گنہگاروں میں پیغمبر نہیں رہتے
کہ سنگ و خشت کی بستی میں شیشہ گر نہیں رہتے
ادھوری ہر کہانی ہے یہاں ذوقِ تماشہ کی
کبھی نظریں نہیں رہتیں، کبھی منظر نہیں رہتے
بہت مہنگی پڑے گی پاسبانی تم کو غیرت کی 
جو دستاریں بچا لیتے ہیں ان کے سر نہیں رہتے

سر میدان کربل لاشۂ شبیر کے ٹکڑے

سرِ میدانِ کربل لاشۂ شبیر کے ٹکڑے
جو دیکھے تو ہوئے کیا کیا دلِ ہمشیر کے ٹکڑے
رلایا ہے لہو مختار نے مجبور کو اکثر
کیے ہیں بارہا تقدیر نے تدبیر کے ٹکڑے
وہاں ملتی نہیں اب نام کو بھی کوئی رنگینی
کبھی جنت نشاں تھے وادئ کشمیر کے ٹکڑے

انسانیت کا مرکز و محور حسین ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

انسانیت کا مرکز و محور حسینؓ ہے
جملہ نوازشات کا پیکر حسین ہے
اوقات کیا فرات کی، پانی کی ذات کیا
ایسے میں جب کہ وارثِ کوثر حسین ہے
منزل مری بہشت ہے، دوزخ تِرا مقام
تیرا یزید ہے، مِرا رہبر حسین ہے

Thursday, 28 September 2017

ایک عالم ہے یہ حیرانی کا جینا کیسا

ایک عالم ہے یہ حیرانی کا، جینا کیسا
کچھ نہیں ہونے کو ہے اپنا یہ ہونا کیسا
خون جمتا سا رگ و پے میں ہوئے شل احساس
دیکھے جاتی ہے نظر ہول تماشا کیسا
ریگزاروں میں سرابوں کے سوا کیا ملتا
یہ تو معلوم تھا ہے اب یہ اچنبھا کیسا

بدن پہ زخم سجائے لہو لبادہ کیا

بدن پہ زخم سجائے لہو لبادہ کیا 
ہر ایک سنگ سے یوں ہم نے استفادہ کیا 
ہے یوں کہ کچھ تو بغاوت سرشت ہم بھی ہیں 
ستم بھی اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ کیا 
ہمیں تو موت بھی دے کوئی کب گوارا تھا 
یہ اپنا قتل تو بالقصد بالارادہ کیا 

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے

نظر آتا ہے وہ جیسا نہیں ہے 
جو کہتے ہو مگر ویسا نہیں ہے 
نہیں ہوتا ہے کیا کیا اس جہاں میں 
وہی جو چاہیۓ، ہوتا نہیں ہے 
بھرا ہے شہر فرعونوں سے اپنا 
کوئی ہوتا جو اک موسیٰ نہیں ہے